ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کورونا کی نئی نوعیت کے پیش نظر فعال رہنے کی ضرورت:وزیراعظم

کورونا کی نئی نوعیت کے پیش نظر فعال رہنے کی ضرورت:وزیراعظم

Sun, 28 Nov 2021 11:19:08    S.O. News Service

نئی دہلی، 28؍نومبر(آئی این ایس انڈیا) جنوبی افریقہ میں ناول کورونویرس کی ایک نئی شکل کا پتہ چلنے اور اس کے بارے میں دنیا بھر میں پائے جانے والے خدشات کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کے تناظرمیں فعال رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ مزید چوکس رہنے اورماسک پہننے اور مناسب فاصلے سمیت دیگر تمام احتیاطی تدابیرپرعمل کرنے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نے ملک میں COVID-19 کی تازہ ترین صورتحال اور جاری ویکسینیشن مہم کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی ہے۔

تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ کے دوران حکام نے وزیر اعظم کو کورونا وائرس کی نئی شکل اومیکرون کی دریافت اور مختلف ممالک میں اس کے اثرات سے پیدا ہونے والے خدشات سے آگاہ کیا۔وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے تمام بین الاقوامی پروازوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ فعال رہنے اور احتیاطی تدابیرپرعمل کرنے کی ضرورت کا اظہار کیاہے۔

پی ایم اوکے مطابق وزیراعظم نے حکام سے کہاہے کہ تمام بین الاقوامی طیاروں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ خطرے میں ممالک سے آنے والے لوگوں کی ہدایات کے مطابق اسکریننگ کی جانی چاہیے۔وزیر اعظم نے حکام سے یہ بھی کہاہے کہ وہ کوروناکے دوبارہ خطرات کے پیش نظر بین الاقوامی پروازوں پر پابندی اٹھانے کے منصوبے پر نظرثانی کریں۔ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے منعقدہ اس میٹنگ میں کابینہ سکریٹری راجیو گوبا، وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری پی کے مشرا، مرکزی صحت سکریٹری راجیش بھوشن،نیتی آیوگ کے رکن(صحت) وی کے پال،نیتی آیوگ کے اے کے بھلا اورحکومت ہند کے سربراہ سائنسی مشیر کے وجے راگھون سمیت کچھ دیگر عہدیدار موجود تھے۔

اس سب کے درمیان جنوبی افریقہ میں کووڈ-19 کی نئی شکل کی آمد نے بہت سے ممالک کی تشویش کو بڑھا دیا ہے اور انہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دی ہیں۔عالمی ادارئہ صحت (WHO) کی ایک کمیٹی نے کورونا وائرس کی اس نئی شکل کو Omicronکا نام دیا ہے اور اسے انتہائی متعدی تشویشناک شکل قراردیاہے۔کورونا وائرس کی اس نئی شکل کے سامنے آنے کے بعدیوروپی یونین کے ساتھ ساتھ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، روس اور دیگر کئی ممالک نے افریقی ممالک کے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی ہے۔


Share: